کچھ محبتیں مکمل ہونے کے لیے نہیں ہوتیں۔ وہ ہماری زندگی میں آتی ہیں، ہمیں ہنسنا سکھاتی ہیں، خواب دکھاتی ہیں، اور پھر ایک دن خاموشی سے ہم سے دور چلی جاتی ہیں۔ پیچھے رہ جاتی ہیں کچھ یادیں، کچھ سوال اور ایک ایسا درد جسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔
میری محبت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔
میں نے اسے پہلی بار دیکھا تو دل نے عجیب سا احساس محسوس کیا۔ نہ کوئی خاص بات ہوئی، نہ کوئی وعدہ، مگر دل جیسے پہلے ہی اسے پہچانتا تھا۔ اس کی مسکراہٹ، اس کا بات کرنے کا انداز اور اس کی چھوٹی چھوٹی باتیں میرے لیے خاص ہوتی گئیں۔
پھر باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
ایک عام سی گفتگو کب محبت میں بدل گئی، مجھے خود معلوم نہیں ہوا۔ اس کی ایک کال کا انتظار رہتا، اس کے پیغام کا جواب دیتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی۔ میں نے مستقبل کے وہ خواب بھی دیکھنے شروع کر دیے جن میں وہ میرے ساتھ تھی۔
مجھے یقین تھا کہ ہماری محبت کا انجام خوشگوار ہوگا۔
لیکن زندگی ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں چلتی۔
وقت کے ساتھ حالات بدلنے لگے۔ جو باتیں کبھی آسانی سے ہو جاتی تھیں، ان کے لیے بھی اب وقت نکالنا مشکل ہونے لگا۔ فاصلے بڑھنے لگے، غلط فہمیاں پیدا ہونے لگیں اور وہ محبت جو کبھی بہت مضبوط محسوس ہوتی تھی، آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگی۔
میں نے اسے روکنے کی کوشش کی۔
میں نے سمجھایا کہ اگر محبت سچی ہے تو مشکلات سے لڑا جا سکتا ہے۔ میں نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی، اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا اور کئی بار اپنی انا کو ایک طرف رکھا۔
مگر شاید صرف ایک شخص کی کوشش محبت کو زندہ نہیں رکھ سکتی۔
ایک دن اس نے کہا،
“شاید ہمارا ساتھ یہاں تک ہی تھا۔”
یہ چند الفاظ میرے لیے پوری دنیا کے خاموش ہو جانے جیسے تھے۔
میں چاہتا تھا کہ اسے روک لوں۔ کہنا چاہتا تھا کہ ایک بار اور کوشش کر لیتے ہیں۔ کہنا چاہتا تھا کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکوں گا۔ مگر میرے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا اور اس کے پاس جانے کا فیصلہ۔
وہ چلی گئی۔
اور میں وہیں رہ گیا جہاں ہم نے کبھی ساتھ کھڑے ہو کر مستقبل کے خواب دیکھے تھے۔
اس کے جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ادھوری محبت مکمل محبت سے زیادہ یاد رہتی ہے۔ کیونکہ مکمل محبت کو ایک انجام مل جاتا ہے، مگر ادھوری محبت ہمیشہ ایک سوال بن کر دل میں رہتی ہے۔
“اگر ہم تھوڑا اور انتظار کرتے تو؟”
“اگر ہم ایک دوسرے کو بہتر سمجھ پاتے تو؟”
“اگر حالات ہمارے حق میں ہوتے تو؟”
یہ “اگر” انسان کو بہت دیر تک اپنے اندر قید رکھتا ہے۔
کبھی کبھی میں پرانی باتیں یاد کرتا ہوں۔ وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں، وہ لمبی گفتگو، وہ وعدے اور وہ خواب جو کبھی ہمارے تھے۔ دل چاہتا ہے وقت پیچھے چلا جائے اور میں اس لمحے کو دوبارہ جی سکوں جب سب کچھ خوبصورت تھا۔
لیکن وقت واپس نہیں آتا۔
اب میں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ ہر محبت کا مل جانا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ محبتیں ہمیں خود سے ملانے کے لیے آتی ہیں۔ وہ ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم کتنا گہرا محسوس کر سکتے ہیں، کتنا انتظار کر سکتے ہیں اور کسی کے لیے اپنی ذات سے کتنا آگے جا سکتے ہیں۔
میں آج بھی اسے برا نہیں سمجھتا۔
شاید وہ اپنی جگہ درست تھی، شاید حالات ہمارے خلاف تھے، یا شاید ہماری منزلیں الگ تھیں۔
لیکن ایک بات سچ ہے۔
میں نے اسے سچے دل سے چاہا تھا۔
اور شاید اسی لیے اس محبت کے ادھورے رہ جانے کا دکھ آج بھی میرے دل میں کہیں موجود ہے۔
اب میں اس کے واپس آنے کا انتظار نہیں کرتا۔ میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ ہماری زندگی میں واپس آنے کے لیے نہیں، بلکہ ہمیں ایک خوبصورت یاد دے کر جانے کے لیے آتے ہیں۔
وہ میری زندگی کا ایک خوبصورت باب تھی۔
باب ختم ہو گیا، مگر کہانی باقی ہے۔
میں نے اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنا سیکھ لیا ہے۔ اب میں مسکراتا ہوں، آگے بڑھتا ہوں اور ماضی کو ماضی ہی رہنے دیتا ہوں۔
بس کبھی کبھی دل خاموشی سے یہ ضرور کہتا ہے—
محبت شاید ہماری ادھوری تھی، مگر جو احساس تھا، وہ کبھی ادھورا نہیں تھا۔